سلام بحضور آل_ عبا
خاک اور خون کے منظر کی ستائی آنکھیں
کربلاتی ہی رہیں شام کو آئی آنکھیں
ذوالجناح! اب مرے باباؓ کو نہ لے کر جاﺅ
دے رہی تھیں کسی کمسن کی دُہائی آنکھیں
عصرِ عاشور تلک دھرتی مسلسل روئی
شام آئی تو فلک کی بھی بھر آئی آنکھیں
پھیر لیں اجنبی صحرا نے جب آنکھیں اپنی
شاہؓ نے اصغرِ تشنہ کو پلائی آنکھیں
قحطُ الابصار کے اُس عہدِ سِیہ بختی میں
نُور زادے نے سرِ دشت اُگائی آنکھیں
خون آشام تھی وہ شام کہ جب نیزے پر
ایک مہتاب نے ظلمت کو دکھائی آنکھیں
غمِ شبیرؓ میں چند اشک بہائے میں نے
مل گئیں رونقِ دُنیا میں گنوائی آنکھیں
اب تو وہ ماہِ امامت نظر آ جائے ہمیں
کب سے بے تاب ہیں درشن کو فدائی آنکھیں
احمد نواز



