کئی زمانوں سے ہوتا زمین تک پہنچا
میں تھا تو نُور مگر ماء و طین تک پہنچا
میں تھا تو نُور مگر ماء و طین تک پہنچا
نظر کے سامنے حائل تھیں ظلمتیں کیا کیا
میں جن کو چیر کر نُور المبین تک پہنچا
میں جن کو چیر کر نُور المبین تک پہنچا
یہ حسن جوئی تو بچپن سے میری عادت ہے
میں ماہتاب سے اُس مہ جبین تک پہنچا
میں ماہتاب سے اُس مہ جبین تک پہنچا
نہیں ہوا ہوں کبھی مطمئن میں کم تر پر
خدا کا شکر کہ اب بہترین تک پہنچا
خدا کا شکر کہ اب بہترین تک پہنچا
مجھے مجاز سے آئی سمجھ حقیقت کی
میں کوئے یار کو نکلا تو دین تک پہنچا
میں کوئے یار کو نکلا تو دین تک پہنچا
یہ قاف عشق کا، منزل ہے کوہِ قاف ایسی
ابھی تو خیر سے میں عین، شین تک پہنچا
ابھی تو خیر سے میں عین، شین تک پہنچا
گماں کے گہرے سمندر تھے راستے میں، جنھیں
عبور کر کے میں عین الیقین تک پہنچا
عبور کر کے میں عین الیقین تک پہنچا
جسے جہان میں ڈھونڈا وہ اپنے گھر سے ملا
میں دل کو لوٹا تو دل کے مکین تک پہنچا
میں دل کو لوٹا تو دل کے مکین تک پہنچا
میں آپ اپنے حجابات کو ہٹاتا رہا
یوں ایک دن رخِ پردہ نشین تک پہنچا
یوں ایک دن رخِ پردہ نشین تک پہنچا
تماش بین زمانے سے بچ بچا کے نواز
بڑے بھرم سے میں تجھ درد بین تک پہنچا
بڑے بھرم سے میں تجھ درد بین تک پہنچا



