کراچی(پی پی اے ) وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم میں اضافے کے بجائے مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں اور اب اس وژن کو عملی اقدامات میں بدلنے کا وقت آگیا ہے عرفان سومرو نے بتایا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر اور آبادی ایک ارب سے زائد ہے جو تجارت سرمایہ کاری زراعت معدنیات سیاحت اور نوجوان افرادی قوت کے شعبوں میں وسیع مواقع فراہم کرتی ہے تاہم مختلف معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی مکمل معاشی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات اور 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں اس لیے تجارتی خسارے میں کمی اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دینا ضروری ہے انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط مضبوط بنائے تاکہ نئی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا جبکہ ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے فروغ پر زور دیا سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ ناگزیر ہے اجلاس میں مختلف رکن ممالک کے سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی



