باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
Daily IMrozeDaily IMrozeDaily IMroze
Notification Show More
Aa
  • صفحہ اوّل
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • کھیل
  • بزنس
  • کالم و اداریہ
  • پی ڈی ایف PDF
  • رابطہ
Reading: ارضیاتی آفات سے بچاؤ کی چینی ٹیکنالوجی نے قراقرم ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا
Share
Daily IMrozeDaily IMroze
Aa
Search
  • صفحہ اوّل
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • کھیل
  • بزنس
  • کالم و اداریہ
  • پی ڈی ایف PDF
  • رابطہ
Have an existing account? Sign In
Follow US
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Daily IMroze > Blog > انٹر نیشنل > ارضیاتی آفات سے بچاؤ کی چینی ٹیکنالوجی نے قراقرم ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا
انٹر نیشنل

ارضیاتی آفات سے بچاؤ کی چینی ٹیکنالوجی نے قراقرم ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا

News Desk
Last updated: 2025/10/30 at 9:27 صبح
News Desk 1 مہینہ ago
Share
SHARE

ارضیاتی آفات سے بچاؤ کی چینی ٹیکنالوجی نے قراقرم ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا

لان ژو(شِنہوا)لان ژو یونیورسٹی کی ارضیاتی آفات کی تحقیقاتی ٹیم کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کو اب پورے قراقرم ہائی وے پر بروئے کار لایا جا چکاہے جو چین-پاکستان ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لئے ایک اہم سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر میں بھی نمایاں معاونت پیش کرتی ہے۔
یہ ہائی وے جسے چین-پاکستان دوستی ہائی وے بھی کہا جاتا ہے، 1960 کی دہائی میں چین کی مالی معاونت سے تعمیر ہوا اور پاکستان کے شمالی خطے کے لئے ایک اہم اقتصادی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
1979 میں مکمل ہونے والا یہ ہائی وے چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار خطے اور پاکستان کے گلگت بلتستان خطے کو قراقرم پہاڑوں کے پار ملاتا ہے۔ دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں سے ایک ہونے کے ناطے، یہ ہائی وے سڑک سازی کی انسانی تاریخ میں ایک معجزہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ ہائی وے قراقرم پہاڑوں سمیت کئی اہم پہاڑی سلسلوں سے گزرتی ہے جہاں زمین کی ساخت پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ ہائی وے کے کنارے بلند پہاڑ کھڑے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ جیسے قدرتی حادثات اکثر رونما ہوتے ہیں۔ 2022 میں قراقرم ہائی وے کے ایک حصے کو مون سون بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب نے متاثر کیا تھا۔
لان ژو یونیورسٹی میں ارضیاتی آفات کی ریسرچ ٹیم کے سربراہ اور پروفیسر مینگ شنگ من نے کہا کہ 2017 سے ان کی ٹیم نے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیویلپمنٹ کے ساتھ مل کر چین-پاکستان اقتصادی راہداری میں ارضیاتی آفات کے خطرات کا جائزہ لیا۔ 4 سال سے زائد کی کوششوں کے بعد قراقرم ہائی وے کے زمین کے ماحولیاتی جائزے اور ممکنہ لینڈ سلائیڈز کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے اور لینڈ سلائیڈ اور ملبے کے بہاؤ کے خطرات کا منظم طور پر تجزیہ کیا گیا ہے۔
منصوبے پر عملدرآمد کے دوران ٹیم نے 2 مشترکہ سائنسی فیلڈ تحقیقات کیں اور پورے قراقرم ہائی وے کے کنارے لینڈ سلائیڈز، ملبے کے بہاؤ، تودے گرنے اور بند جھیلوں جیسی متعدد ارضیاتی آفات اور ڈیزاسٹر چینز کی سائنسی تحقیقات مکمل کیں۔
لان ژو یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیقاتی ٹیم کے رکن ژانگ یی نے کہا کہ سائنسی مشن بہت مشکل تھا، ہم اور پاکستانی ہم منصب شدید موسم جیسے بارش اور برفانی حالات سے دوچار ہوئے لیکن آخرکار ہم نے سائنسی کام کامیابی سے مکمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران انہوں نے پاکستانی عوام کے جوش و خروش اور چینی اور پاکستانی عوام کے درمیان مضبوط دوستی کا بھی مشاہدہ کیا۔
مینگ کے مطابق اس منصوبے کے نفاذ نے چین اور پاکستان کے درمیان ارضیاتی آفات کے میدان میں علمی تبادلے اور تعاون کو فروغ دیا اور پاکستان میں ارضیاتی شعبے اور اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لئے ٹیلنٹ بھی تیار کئے۔ اس منصوبے کی مدد سے لان ژو یونیورسٹی نے 2 پاکستانی ڈاکٹریٹ طلبہ کو تربیت دی اور گانسو صوبائی بین الاقوامی تعاون کے منصوبے سے فنڈز حاصل کئے۔
مینگ نے مزید کہا کہ مستقبل میں وہ پاکستانی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے تاکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری میں موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے تحت ارضیاتی آفات کے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ وہ بڑے پیمانے پر آفات کم کرنے کی ٹیکنالوجیز میں اخترع اور شہری کمیونٹیز میں آفات سے مزاحمت کو بہتر بنانے کی تحقیق کریں گے تاکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے لئے سائنسی ضمانتیں فراہم کی جا سکیں۔

You Might Also Like

چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان میں بین الاقوامی کمیونیکیشن فورم کا آغاز

قدیم ریاستِ رُس (روس) میں مسیحیت کا آغاز

پاکستان پربھارتی حملے اورسرحدی جھڑپوں میں 31 پاکستانی شہری شہید، 57 زخمی ہوئے،حکام

نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد میں نوجوانوں کے عالمی یومِ مہارت 2025 کی پُروقار تقریب

اکستان میں جدید زراعت کے لیے چینی تعاون سے تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری میں تیزی

TAGGED: ارضیاتی آفات سے بچاؤ کی چینی ٹیکنالوجی نے قراقرم ہائی وے کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا
News Desk اکتوبر 30, 2025 اکتوبر 30, 2025
Share This Article
Facebook Twitter Email Print
Previous Article چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان میں بین الاقوامی کمیونیکیشن فورم کا آغاز
Leave a comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

- اشتہارات-
Ad imageAd image

!ہمیں فالو کریں

ہمیں سوشل میڈیا پر تلاش کریں۔
Facebook Like
Twitter Follow
Youtube Subscribe
Telegram Follow
- اشتہارات-
Ad imageAd image
about us

خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر تلاش کریں
© Daily IMROZE. Media Hut Design Company. All Rights Reserved.
ہمارے ساتھ شامل ہوں!

ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں اور کبھی بھی تازہ ترین خبروں، پوڈکاسٹس وغیرہ سے محروم نہ ہوں۔

صفر سپیم، کسی بھی وقت ان سبسکرائب کریں۔
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?