شی شیاؤمینگ /شِنہوا
یہ چین کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے قدیم دارالحکومت شی آن میں ابتدائی گرمیوں کی ایک درخشاں دوپہر ہے۔انار کے چھ درخت بڑے پُروقار انداز میں اُس مقام کے قریب ایستادہ ہیں جہاں مئی 2023 میں چین –وسطی ایشیا کا افتتاحی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اب ان درختوں کی شاخیں پھلوں سے جھکی ہوئی ہیں۔
دو سال قبل چینی صدر شی جن پھنگ اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے اس لہلہاتے باغ کو لگایا تھا۔ اب یہ باغ چین اور وسطی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے قریبی اور متحرک رشتے کا ایک واضح ثبوت ہے۔
ماضی کی کامیابیوں پربنیادرکھتے ہوئے، شی اور ان کے وسطی ایشیا کے ہم منصب اس ماہ کے آخر میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں دوسری سربراہی اجلاس کے لیے اکٹھے ہونے والے ہیں، جہاں وہ یوریشیا کے قلب میں تجارت، سلامتی اور روابط کی ڈورمیں مضبوط گرہیں لگائیں گے۔

نئی مثال سازی
سال 2023میں ہونےوالا شی آن سربراہی اجلاس، چین-وسطی ایشیا تعاون کے طریقہ کار کے تحت سربراہان مملکت کا پہلا اجلاس تھا۔اس شہر کی عزت ماب آغوش میں، سربراہانِ مملکت نے چین اور وسطی ایشیا میں باری باری ہر دو سال بعد اعلیٰ سطح کے اجتماع کی میزبانی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
پچھلے سال، شی کے آبائی صوبے شانشی کے دارالحکومت شی آن میں ایک سیکرٹیریٹ کے قیام کے ساتھ اس طریقہ کار کو مزید ادارہ جاتی بنادیا گیا۔
شی جن پھنگ خطے کے ساتھ چین کے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں، وسطی ایشیا ایک اسٹریٹجک سنگم پرواقع ہے، جو مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب کو آپس میں ملاتا ہے۔
"وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چین کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے،” یہ بات 2013 میں چینی صدر بننے کے بعد شی نے وسطی ایشیا کے اپنے پہلے دورے کے دوران کہی تھی ۔
اس کے بعد سے، وہ آٹھ بار خطے کے متعدد سفر کر چکے ہیں۔ان سفروں کے دوران انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کو گہرا کیا اور یہ کام انہوں نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اور ایشیا میں بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات پر کانفرنس جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے کیا۔
آج وسطی ایشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ہر ملک چین کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ شی نے کہا کہ ان شراکتوں نے اچھے ہمسائیگی اور کامیاب تعاون کا ایک نیا راستہ بنایا ہے، جس سے بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے۔
شی آن سربراہی اجلاس کی ایک خاص بات شی آن اعلامیہ پر دستخط کرنا تھا، جس میں شی اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے صدور نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ ایک مشترکہ مستقبل کو لے کر چین-وسطی ایشیا کمیونٹی کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں گے۔
یہ عزم اس بنیادی خیال کے ساتھ مطابقت رکھتا ہےجسے’’ شی پلومیسی‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وسطی ایشیا میں دوطرفہ سطح پر اس وژن کو مکمل طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
کرغزستان کے انسٹی ٹیوٹ آف ورلڈ پالیسی کے ڈائریکٹر شیردل بکتی گلوف نے کہا کہ شی جن پھنگ اور وسطی ایشیا کے رہنماؤں کا مشترکہ سیاسی عزم چین اور وسطی ایشیا کے تعاون کی پائیدار ترقی کی کلید ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ یوریشیائی خطے میں کثیرالجہتی تعاون کے ایک نئے ماڈل کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔”
وسطی ایشیا کے رہنماؤں کے ساتھ شی جن پھنگ کے مضبوط ذاتی روابط ان تعلقات کو تقویت دیتے ہیں۔ شی آن سربراہی اجلاس میں، شی نے تاجک صدرامام علی رحمان کو "میرے پرانے دوست” کہہ کر خوش آمدید کہا۔ صدر شی کے ساتھ بات چیت میں ازبک صدر شوکت مرزیوئیف نے انہیں اپنا "پیارا بھائی” کہا۔
قازق صدر قاسم جومارت توکائیف، جو ایک ماہر سائنوولوجسٹ بھی ہیں، اپنی 70 ویں سالگرہ پر شی آن پہنچے۔ شی نے ان سے کہا، "اس خاص موقع پر، آپ کا دورہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے بارے میں بہت کچھ کہہ رہا ہے اور چین کے ساتھ آپ کے منفرد تعلق کی تصدیق کر رہا ہے۔”

شاہراہِ ریشم کی بحالی
"شپمنٹ شروع کی جائے!” اس حکم کے ساتھ، شی اور توکایف نے جولائی 2024 میں آستانہ میں منعقدہ ایک تقریب میں مشترکہ طور پر چین-یورپ ٹرانس کیسپین ایکسپریس روٹ کا آغاز کیا۔
اس موقع پر ایک کثیرالجہتی کنیکٹیویٹی نیٹ ورک کا باضابطہ قیام عمل میں آیا، جس میں شاہراہوں، ریلوے، ایئر لائنز اور پائپ لائنوں کو مربوط کیا گیا، تاکہ ایشیا کو بحیرہ کیسپین کے راستے یورپ سے بہتر طور پر منسلک کیا جا سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کی ایک متحرک شریان بن جائے گا۔
قدیم شاہراہِ ریشم چین اور وسطی ایشیا کے درمیان مضبوط تجارتی اور ثقافتی تبادلوں کی گواہ ہے، اور شی اسے خطے کو جدید دور کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ستمبر 2013 میں، آستانہ میں بھی، شی نے نذر بائیف یونیورسٹی میں ایک تاریخی تقریر کی، جہاں انہوں نے سب سے پہلے سلک روڈ اکنامک بیلٹ کی تعمیر کے لیے اپنا وژن پیش کیا جو کہ بی آر آئی کا ایک اہم جزو ہے۔
شی نے کہا، "ہم ا س بات پر بھرپور انداز میں تبادلہ خیال کر سکتے ہیں کہ کس طرح سے سرحد پار نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے۔ ہم مشرقی ایشیا، مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والے نقل و حمل کے نیٹ ورک کے لیے کام کر سکتے ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی اور سفر کو آسان بنایا جا سکے۔”
اس کے بعدکئی برسوں کے دوران ، اب یہ وژن بتدریج ایک حقیقت بن چکا ہے.اس کی ایک حالیہ مثال یہ ہے کہ کرغزستان کے سرحدی شہر جلال آباد میں گزشتہ سال کے آخر میں چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے منصوبے کے آغاز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ شی نے ایک مبارکبادی خط میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے تحت ریلوے کو ایک "نیو ڈیمونسٹریشن پراجیکٹ” کے طور پر تعمیر کرنے پر زور دیا۔
یہ ریلوے لائن چین کے مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں واقع قدیم شاہراہ ِریشم کے مرکز کاشغر سے شروع ہو گی، توروگارٹ پاس سے گزر کرغزستان میں داخل ہو گی،پھر جلال آباد سے ہوتے ہوئے مغرب کی طرف بڑھے گی، اور مشرقی ازبک شہر اندیجان پہنچے گی۔
کرغیز صدر سدیر جاپاروف نے کہا کہ یہ ریلوے محض نقل و حمل کی ایک راہداری نہیں ہے بلکہ مشرق اور مغرب کے ممالک کو ملانے والے ایک اہم اسٹریٹجک پل کے طور پر کام کرے گی۔
بیلٹ اینڈ روڈ تعاون نے خطے میں تجارت، سفر اور تبادلوں کو مؤثر طریقے سے فروغ دیا ہے۔ 2024 میں، وسطی ایشیا کے ساتھ چین کی تجارت ریکارڈ 94.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جس کا کچھ حصہ سرحد پار ای کامرس کے فروغ کے باعث ہوا ہے۔ چین اب وسطی ایشیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر اور سرمایہ کاری کا بڑا ذریعہ ہے۔
تاجکستان 2014 میں شاہراہ ریشم اکنامک بیلٹ کے حوالے سے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس تعاون سے، نئی شاہراہوں اور پاور پلانٹس سے لے کر نئے شہری لینڈمارکس تک بڑے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر میں شی نے ذاتی طور پر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
تاجکستان وسطی ایشیا میں پہلی لوبان ورکشاپ کا گھر بھی ہے، ایک چینی پیشہ ورانہ تربیتی مرکز جس نے پہلے ہی 1500 سے زائد طلبہ میں انجینئرنگ، فنِ تعمیر، پانی کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ میں عملی مہارتوں کو بھر دیا ہے۔ یہ مرکز قوم کی مستقبل کی ترقی کے لیے ہنرسازی کر رہا ہے۔
2024 میں ملک کے سرکاری دورے کے دوران ، شی نے رحمان سے کہا: "میں نے ایک زیادہ خوشحال تاجکستان دیکھا ہے۔”

ثقافتی نقاشی
2022 کے موسم خزاں میں، اسطوری شاہراہ ریشم کے شہر سمرقند کا دورہ کرتے ہوئے، شی نے ازبک صدر میرزی یوئیف کو ایک خصوصی تحفہ پیش کیا: کھیوا کا ایک چھوٹا سافن پارہ، کھیوا شاہراہ ریشم کی ایک تاریخی چوکی ہے۔
کھیوا وسطی ایشیا میں چین کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کا پہلا منصوبہ ہے۔ چینی ماہرین کی قیادت میں برسوں تک ہونے والے بحالی کے کام کی بدولت،اس قدیم قصبے نے اب ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔

شی نے اپنے 2022 کے ازبکستان کے دورے سے قبل ایک دستخط شدہ مضمون میں لکھا، "خیوا میں تاریخی مقامات کی حفاظت اور بحالی کا کام، جو کہ 2013 میں میرے سمرقند کے دورے کے دوران شروع کیا گیا تھا، کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے، جس سے اس قدیم شہر کی دلکشی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔”
2016 میں ملک کے پہلے دورے کے دوران، شی نے اس منصوبے پر کام کرنے والے چینی ماہرین سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے ان پر زور دیتے ہوئےکہا تھا کہ”ثقافتی آثار کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔”
حالیہ برسوں کے دوران، چینی اور وسطی ایشیائی اسکالرزکے درمیان مشترکہ آثار قدیمہ کی کوششیں پورے خطے میں پھیل چکی ہیں، جن میں قازقستان کا قدیم شہر راحت اور کرغزستان میں کراسنایا ریچکا کا ایک قدیم بدھ مندر بھی شامل ہے۔

شی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ چین-وسطی ایشیا کی دوستی تاریخ کی جڑوں میں موجود ہے۔ متعدد مواقع پر، انہوں نے ہان خاندان کے سفیر ژانگ جھیان کی میراث بھی یاد دلائی ، جس نے 2100 سال پہلے مغرب کی طرف سفر کیا تھااور چین اور خطے کے درمیان پائیدار دوستی اور تبادلے کے دروازے کھولےتھے۔ انہوں نے "ہماری روایتی دوستی کو آگے بڑھانے” کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
2024 میں قازقستان کے اپنے سرکاری دورے کے دوران، شی نے توکایف کے ساتھ مل کر، بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی کی قازقستان شاخ کی نقاب کشائی کی۔ یہ وہی ادارہ ہے جہاں قازق صدر نے 1980 کی دہائی میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کی تھی۔ شی نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا اسکول دونوں قوموں بالخصوص نوجوان نسل کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دے گا۔
اپنےدورے کے ایک حصے کے طور پر، شی نے اسکول کے بچوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی جنہوں نے مینڈارن میں ان کا استقبال کیا اور ایک چینی گیت گایا۔ ان میں سے کچھ نے اپنے ایک دن تسنگھوا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواب کا اظہاربھی کیا۔

چینی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا، "میں بھی دل سے چاہتا ہوں کہ آپ مستقبل میں اچھی یونیورسٹیوں میں جا سکیں ۔ اور چین میں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ کا بہت بہت خیرمقدم ہے۔”
اس طرح کے تبادلوں کے وسیع تر اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے، ازبک سیاسی مبصر شروف الدین تولاگانوف نے کہا کہ چین-وسطی ایشیا کے تعاون کے طریقہ کار کے تحت، تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے کےعمل کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے پیچیدہ بین الاقوامی ماحول میں اس طرح کے افراد سے لوگوں کے ادارہ جاتی تبادلے علاقائی امن کے تحفظ اور مشترکہ ترقی کو پروان چڑھانے کی کوششوں میں قابلِ قدر ثقافتی رفتار کو تیز تر کریں گے۔



