امروز رپورٹ
اسلام آباد:آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پٹرولیم (ترمیمی ) ایکٹ 2023 کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس قانون کا مقصد ایندھن کی اسمگلنگ کو روکنا ہے لیکن اس میں سقم موجود ہیں جس سے پٹرولیم ڈیلرز کی مشکلات میں اضافہ اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ پٹرول پمپ مالکان سے خطاب کرتے ہوئےآل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے )کے ترجمان حسن شاہ نے کہا کہ اس بل کے تحت ضلعی انتظامیہ کو وسیع اور غیر مشروط اختیارات مل جائیں گے جو عدالتی نگرانی اور ریگولیٹر کے چیک اینڈ بیلنس سے مبرا ہونگے۔ ایسے اختیارات کی وجہ سے ڈیلرز کو دھونس، بدعنوانی اور غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاپٹرول ڈیلرز نے ملک بھر میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جسے یہ بل خطرے میں ڈال رہا ہے ۔حسن شاہ نے بتایا کہ پاکستان میں 11,800 سے زائد رجسٹرڈ پٹرول پمپ ہیں جن میں سے تیراسی فیصدآزاد ریٹیلرز چلا رہے ہیں۔یہ آئل مارکیٹنگ کمینیوں (او ایم سیز) کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کا ایندھن کی درآمد، پیداوار یا ملاوٹ سے کوئی تعلق نہیں مگر اسکے باوجود مجوزہ ترمیم ضلعی افسران کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ بغیر کسی ثبوت یا پیشگی اطلاع کے پٹرولم پمپ سیل کردیں، بھاری جرمانے عائد کریں یا اثاثے ضبط کر لیں۔ڈیلرز کو ایسے معاملات کا ذمہ دار کیسے ٹھرایا جا سکتا ہے جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ حالیہ اندازوں کے مطابق روزانہ ایک کروڑ لیٹر سے زائد ایرانی پٹرول اور ڈیزل ملک میں اسمگل ہو رہا ہےجس سے سالانہ 227 ارب روپے سے زیادہ کےٹیکس کا نقصان ہو رہا ہے۔ بلوچستان میں غیر قانونی ایندھن کی تجارت کا حجم 400 ملین ڈالر ہے جو صوبے میں قانونی تجارت سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے قومی خزانے کو یومیہ 1.5 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔حسن شاہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے سب سے زیادہ ڈیلر متاثر ہو رہے ہیں اس لئے وہ اسکے سخت مخالف ہیں مگر سمگلروں کے بجائے انہی پر نزلہ گرایا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ہم نے مجوزہ بل میں چند کلیدی ترامیم تجویز کی ہیں جن پر ارباب اختار غور کریں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ صرف اس صورت میں ریٹیلرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جب ان کی نیت یا شمولیت ثابت ہو۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے بھی جواب طلب کیا جائے۔ قانونی کارروائی کے بغیرپمپ سیل کرنے یا جرمانے عائد کرنے پر پابندی ہو۔ اوگرا کو دوبارہ مرکزی ریگولیٹر کے طور پر بحال کیا جائے اور انتظامیہ اپنی تمام کارروائیوں کی اطلاع اوگرا کو 48 کے اندر اندر دے۔ پیٹرولیم ریٹیلرز کی شکایات کے لئے کمیٹی کا قائم کی جائے جس میں تمام شراکت داروں کے نمائندے شامل ہوں۔وہسل بلوورز کو تحفظ دیا جائے۔
ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی اور متاثرہ ڈیلرز کو معاوضہ دیا جائے، متنازعہ ترامیم ختم کی جائیں اورڈیجیٹل ٹریکنگ کے نفاذ کے لیے مہلت دی جائے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں میجر (ر)نوید سلیمان ملک نے کہاکہ انتظامی اختیارات صرف مکمل انکوائری اور عدالتی منظوری کے بعد استعمال کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کے حامی ہیں لیکن مجرموں اور کمیشن پر کام کرنے والے یٹیلرز کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔غیر قانونی ایندھن کی تجارت میں اضافے کے باوجود پ2024 کے آخر میں پیٹرولیم کی فروخت 25 ماہ کی بلند ترین سطح 1.58 ملین ٹن تک پہنچ گئی جس کی وجہ ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی تھی۔ اگر قانونی کاروباروں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ پیشرفت ضائع ہو سکتی ہے۔حسن شاہ نے کہا کہ ہم قانون سازی کے مخالف نہیں مگر غیر منطقی قانون سازی نہیں چاہتے۔یہ بل ملک بھر میں ایندھن سپلائی کرنے والوں کو سزا دے گا جبکہ سمگلروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے فوری مشاورت کرے اور بل کو نافذ کرنے سے قبل ضمنی قانون سازی یا ایگزیکٹو رولز کے ذریعے اس میں ترمیم پر غور کرے۔
ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی اور متاثرہ ڈیلرز کو معاوضہ دیا جائے، متنازعہ ترامیم ختم کی جائیں اورڈیجیٹل ٹریکنگ کے نفاذ کے لیے مہلت دی جائے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں میجر (ر)نوید سلیمان ملک نے کہاکہ انتظامی اختیارات صرف مکمل انکوائری اور عدالتی منظوری کے بعد استعمال کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کے حامی ہیں لیکن مجرموں اور کمیشن پر کام کرنے والے یٹیلرز کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔غیر قانونی ایندھن کی تجارت میں اضافے کے باوجود پ2024 کے آخر میں پیٹرولیم کی فروخت 25 ماہ کی بلند ترین سطح 1.58 ملین ٹن تک پہنچ گئی جس کی وجہ ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی تھی۔ اگر قانونی کاروباروں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ پیشرفت ضائع ہو سکتی ہے۔حسن شاہ نے کہا کہ ہم قانون سازی کے مخالف نہیں مگر غیر منطقی قانون سازی نہیں چاہتے۔یہ بل ملک بھر میں ایندھن سپلائی کرنے والوں کو سزا دے گا جبکہ سمگلروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے فوری مشاورت کرے اور بل کو نافذ کرنے سے قبل ضمنی قانون سازی یا ایگزیکٹو رولز کے ذریعے اس میں ترمیم پر غور کرے۔



