باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
Daily IMrozeDaily IMrozeDaily IMroze
Notification Show More
Aa
  • صفحہ اوّل
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • کھیل
  • بزنس
  • کالم و اداریہ
  • پی ڈی ایف PDF
  • رابطہ
Reading: پٹرول ڈیلرز نے مجوزہ پیٹرولیم بل میں منصفانہ ترامیم کا مطالبہ کر دیا
Share
Daily IMrozeDaily IMroze
Aa
Search
  • صفحہ اوّل
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • کھیل
  • بزنس
  • کالم و اداریہ
  • پی ڈی ایف PDF
  • رابطہ
Have an existing account? Sign In
Follow US
  • اتصل
  • مقالات
  • شكوى
  • يعلن
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Daily IMroze > Blog > بزنس > پٹرول ڈیلرز نے مجوزہ پیٹرولیم بل میں منصفانہ ترامیم کا مطالبہ کر دیا
بزنس

پٹرول ڈیلرز نے مجوزہ پیٹرولیم بل میں منصفانہ ترامیم کا مطالبہ کر دیا

News Desk
Last updated: 2025/05/16 at 7:58 صبح
News Desk 11 مہینے ago
Share
SHARE
امروز رپورٹ
اسلام آباد:آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پٹرولیم (ترمیمی ) ایکٹ 2023 کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس قانون کا مقصد ایندھن کی اسمگلنگ کو روکنا ہے لیکن اس میں سقم موجود ہیں جس سے پٹرولیم ڈیلرز کی مشکلات میں اضافہ اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ پٹرول پمپ مالکان سے خطاب کرتے ہوئےآل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے )کے ترجمان حسن شاہ نے کہا کہ اس بل کے تحت ضلعی انتظامیہ کو وسیع اور غیر مشروط اختیارات مل جائیں گے جو عدالتی نگرانی اور ریگولیٹر کے چیک اینڈ بیلنس سے مبرا ہونگے۔ ایسے اختیارات کی وجہ سے ڈیلرز کو دھونس، بدعنوانی اور غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاپٹرول ڈیلرز نے ملک بھر میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جسے یہ بل خطرے میں ڈال رہا ہے ۔حسن شاہ نے بتایا کہ پاکستان میں 11,800 سے زائد رجسٹرڈ پٹرول پمپ ہیں جن میں سے تیراسی فیصدآزاد ریٹیلرز چلا رہے ہیں۔یہ آئل مارکیٹنگ کمینیوں (او ایم سیز) کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کا ایندھن کی درآمد، پیداوار یا ملاوٹ سے کوئی تعلق نہیں مگر اسکے باوجود مجوزہ ترمیم ضلعی افسران کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ بغیر کسی ثبوت یا پیشگی اطلاع کے پٹرولم پمپ سیل کردیں، بھاری جرمانے عائد کریں یا اثاثے ضبط کر لیں۔ڈیلرز کو ایسے معاملات کا ذمہ دار کیسے ٹھرایا جا سکتا ہے جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ حالیہ اندازوں کے مطابق روزانہ ایک کروڑ لیٹر سے زائد ایرانی پٹرول اور ڈیزل ملک میں اسمگل ہو رہا ہےجس سے سالانہ 227 ارب روپے سے زیادہ کےٹیکس کا نقصان ہو رہا ہے۔ بلوچستان میں غیر قانونی ایندھن کی تجارت کا حجم 400 ملین ڈالر ہے جو صوبے میں قانونی تجارت سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے قومی خزانے کو یومیہ 1.5 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔حسن شاہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے سب سے زیادہ ڈیلر متاثر ہو رہے ہیں اس لئے وہ اسکے سخت مخالف ہیں مگر سمگلروں کے بجائے انہی پر نزلہ گرایا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ہم نے مجوزہ بل میں چند کلیدی ترامیم تجویز کی ہیں جن پر ارباب اختار غور کریں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ صرف اس صورت میں ریٹیلرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جب ان کی نیت یا شمولیت ثابت ہو۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے بھی جواب طلب کیا جائے۔ قانونی کارروائی کے بغیرپمپ سیل کرنے یا جرمانے عائد کرنے پر پابندی ہو۔ اوگرا کو دوبارہ مرکزی ریگولیٹر کے طور پر بحال کیا جائے اور انتظامیہ اپنی تمام کارروائیوں کی اطلاع اوگرا کو 48 کے اندر اندر دے۔ پیٹرولیم ریٹیلرز کی شکایات کے لئے کمیٹی کا قائم کی جائے جس میں تمام شراکت داروں کے نمائندے شامل ہوں۔وہسل بلوورز کو تحفظ دیا جائے۔
ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی اور متاثرہ ڈیلرز کو معاوضہ دیا جائے، متنازعہ ترامیم ختم کی جائیں اورڈیجیٹل ٹریکنگ کے نفاذ کے لیے مہلت دی جائے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں میجر (ر)نوید سلیمان ملک نے کہاکہ انتظامی اختیارات صرف مکمل انکوائری اور عدالتی منظوری کے بعد استعمال کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کے حامی ہیں لیکن مجرموں اور کمیشن پر کام کرنے والے یٹیلرز کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔غیر قانونی ایندھن کی تجارت میں اضافے کے باوجود پ2024 کے آخر میں پیٹرولیم کی فروخت 25 ماہ کی بلند ترین سطح 1.58 ملین ٹن تک پہنچ گئی جس کی وجہ ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی تھی۔ اگر قانونی کاروباروں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ پیشرفت ضائع ہو سکتی ہے۔حسن شاہ نے کہا کہ ہم قانون سازی کے مخالف نہیں مگر غیر منطقی قانون سازی نہیں چاہتے۔یہ بل ملک بھر میں ایندھن سپلائی کرنے والوں کو سزا دے گا جبکہ سمگلروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے فوری مشاورت کرے اور بل کو نافذ کرنے سے قبل ضمنی قانون سازی یا ایگزیکٹو رولز کے ذریعے اس میں ترمیم پر غور کرے۔

You Might Also Like

جِنکو سولر کے انٹیلیجنٹ کارخانے کا دورہ

News Desk مئی 16, 2025 مئی 16, 2025
Share This Article
Facebook Twitter Email Print
Previous Article روزنامہ امروز اسلام آباد مورخہ 30 اپریل 2025
Next Article روزنامہ امروز اسلام آباد مورخہ 26 مئی 2025
Leave a comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

- اشتہارات-
Ad imageAd image

!ہمیں فالو کریں

ہمیں سوشل میڈیا پر تلاش کریں۔
Facebook Like
Twitter Follow
Youtube Subscribe
Telegram Follow
- اشتہارات-
Ad imageAd image

Recent Posts

  • نوبل پرائز ـ اعتراف یا خوشامد؟ فیلڈ مارشل کی تکریم میں حدِ فاصل کا تعین
  • مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال پر روسی وزارتِ خارجہ کا بیان
  • شہباز۔منیر: انسانیت کو بچانے والے ہیرو
  • ماہ رنگ بلوچ کی قید تنہائی
  • قومی کمان سے عالمی توجہ تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عروج

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔
about us

خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر تلاش کریں
© Daily IMROZE. Media Hut Design Company. All Rights Reserved.
ہمارے ساتھ شامل ہوں!

ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں اور کبھی بھی تازہ ترین خبروں، پوڈکاسٹس وغیرہ سے محروم نہ ہوں۔

صفر سپیم، کسی بھی وقت ان سبسکرائب کریں۔
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?