چوہدری تبریز عورہ

ناظرین! کافی عرصے سے یہ خیال ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والی مفت ( پارلیمنٹ کی کمیٹی روم میں ہونے والی تقریب مفت ہوتی ہے اس کے کوئی چارجز نہیں ہوتے ) پرائیویٹ تقریبات کی حقیقت کو بے نقاب کیا جائے خصوصاً اُن نام نہاد ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس کی، جو معزز مہمانوں اور سپانسرز میں تقسیم کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں انہیں پارلیمنٹ سے منسوب کر کے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے برطانوی جمہوریت پوری دنیا میں ایک مثال سمجھی جاتی ہے، اور اسی وجہ سے پارلیمنٹ سے جڑی ہر چیز کو غیر معمولی وقعت حاصل ہوتی ہے۔ عام آدمی کے نزدیک اگر کوئی تقریب پارلیمنٹ کی عمارت میں ہو جائے تو وہ اسے سرکاری اور مستند سمجھ لیتا ہے اور یہی وہ کمزوری ہے جس کا بے دریغ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں، سرکاری کاروبار(Official Business) سے ہٹ کر، کمیٹی رومز میں مختلف تقریبات، ملاقاتیں یا مباحثے منعقد کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت کمیونٹی کے ساتھ روابط کے لیے دی گئی ہے، نہ کہ ذاتی تشہیر، کاروباری مفادات یا جعلی اعزازات کی تقسیم کے لیے۔

بدقسمتی سے، کچھ عناصر خصوصاً نام نہاد سماجی تنظیمیں، شوبز سے وابستہ افراد اور فنڈ ریزنگ کے ماہرین اس سہولت کو کاروبار بنا چکے ہیں وہ بیرونِ ملک سے آنے والی شخصیات کو “پارلیمنٹ میں اعزاز” دلوانے کے نام پر پیکجز فروخت کرتے ہیں ان پیکجز میں شاندار تقاریب، تصاویر، اور ایک ایسا ماحول تخلیق کیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ گویا برطانوی ریاست خود انہیں اعزاز دے رہی ہےحقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ان تقریبات میں دیے جانے والے شیلڈز اور سرٹیفکیٹس نہ تو ہاؤس آف کامنزکے جاری کردہ ہوتے ہیں، نہ ہی ہاؤس آف لارڈز سے ان کا کوئی تعلق ہوتا ہے یہ سب کچھ پرائیویٹ آرگنائزیشنز یا افراد کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے، جنہیں بعد میں دانستہ طور پر “پارلیمنٹ ایوارڈ” کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات ان تقریبات میں ویڈیوگرافی کی بھی باقاعدہ اجازت نہیں ہوتی، مگر پھر بھی ریکارڈنگ کی جاتی ہے تاکہ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص بیانیہ بیچا جا سکے میڈیا کا کردار بھی اس معاملے میں قابلِ تشویش ہے۔ چند صحافی  حضرات اس “ڈرامے” کو بڑھاوا دیتے ہوئے اسے بریکنگ نیوز بنا دیتے ہیں کہ فلاں شخصیت کو “برطانوی پارلیمنٹ میں اعزاز سے نوازا گیا” بظاہر یہ جملہ درست لگتا ہے، کیونکہ تقریب پارلیمنٹ کی عمارت میں ہوئی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک گمراہ کن تاثر کے سوا کچھ نہیں۔میں نے اس معاملے پر خود سرکاری سطح پر برطانوی پارلیمنٹ سے وضاحت حاصل کی، اور واضح طور پر بتایا گیا کہ ان ایوارڈز کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہیں اس لیئے انہیں پارلیمنٹ سے منسوب کرنا غلط اور گمراہ کن ہے یہاں ایک نہایت اہم پہلو UK Parliament Code of Conduct کا بھی ہے، جس کے تحت ممبرانِ پارلیمنٹ اپنی حیثیت یا پارلیمانی سہولیات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے کسی بھی قسم کی “Paid Advocacy” (یعنی پیسے لے کر اثر و رسوخ استعمال کرنا) سختی سے ممنوع ہے پارلیمنٹ کے وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا جس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو، خلافِ ضابطہ ہےاگرچہ تکنیکی طور پر کمیٹی روم بک کرانا جائز ہے، مگر جب اس سہولت کو عوام کو دھوکہ دینے، جھوٹے اعزازات بیچنے، اور پارلیمنٹ کے نام کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں بدل دیا جائے تو یہ عمل اخلاقی طور پر قابلِ مذمت اور ضابطہ جاتی روح کے خلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ اس فراڈ کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟میری رائے یہ ہے کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو فوری طور پر ایسے پروگراموں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے،میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کی تصدیق کرنی چاہیےاور سب سے بڑھ کر، پارلیمنٹ کو باقاعدہ پالیسی کے ذریعے کمیٹی رومز میں ایوارڈز کی تقسیم پر پابندی عائد کرنی چاہیے جب تک واضح اور سخت اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ “پارلیمنٹ ایوارڈ انڈسٹری” اسی طرح سادہ لوح افراد کو بیوقوف بناتی رہے گی۔آخر میں، عوام سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہر چمکتی چیز کو سونا نہ سمجھیں۔ پارلیمنٹ کی عمارت میں تصویر بنوا لینا اور حقیقی سرکاری اعزاز حاصل کرنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔